رائے پور19 اگست (ایجنسی) چھتیس گڑھ میں ضلع درگ کے موضع راجپور میں دیہاتیوں نے دعویٰ کیا ہیکہ ایک مقامی بی جے پی لیڈر کی طرف سے چلائی جانے والے گاؤشالہ میں کم سے کم 200 گائے چارہ اور ادویات کی قلت کے سبب فاقہ کشی اور بیماریوں سےہلاک ہوگئی ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں گائیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع کے بائوجود نام نہاد گئو رکھشا کا دعوی کرنے والی سبھی تنظمیں خاموش ہیں اور ایسا لگ رہا ہے جیسے اُنہیں سانپ سونگھ گیا ہو۔
دیہاتیوں نے بتایاکہ تقریباً 200 گائے ہلاک ہوئی ہیں جنہیں گاؤشالہ کے قریب دفن کردیا گیا ہے۔ البتہ سرکاری ذرائع صرف 27 گائیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کررہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ قریبی مقامات پر کئی مردہ گائیوں کے ڈھانچے بھی پڑے دیکھے گئے ہیں۔ بی جے پی لیڈر ہریش ورما نے جو جامل نگر نگم کے نائب صدر بھی ہیں، گذشتہ سات سال سے یہ گاؤشالہ چلارہے ہیں۔ راجپور کی خاتون سرپنچ کے شوہر سیوارام ساہو نے بتایا کہ ’’ہم نے دیکھا کہ گاؤشالہ کے قریب گذشتہ دو دنوں سے جے سی بی مشینوں کا استعمال کیا جارہا ہے جس کی میڈیا نمائندوں کو اطلاع دی گئی تھی۔ جب ہم نے وہاں پہنچ کر دیکھا تو پتہ چلا کہ وہاں مردہ پڑی کئی گایوں کو دفن کرنے کیلئے گھڈے کھودے جارہے تھے‘‘۔ تاہم بی جے پی لیڈرہریش ورما نے دعویٰ کیا کہ دو دن قبل دیوار منہدم ہوجانے کے سبب گایوں کی موت ہوئی ہے۔
ضلع درگ میں محکمہ افزائش حیوانات کے ڈپٹی ڈائرکٹر ایم کے چاؤلہ نے بتایا کہ ’’اس مرحلہ پر ایسا محسوس ہوتا ہیکہ چارہ کی قلت کے سبب گائے ہلاک ہوئی ہیں۔ گذشتہ دودن کے دوران 27 گائیوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے۔ گاؤشالہ کے قریب دفن کردہ گایوں کو نکالنا باقی ہے‘‘۔ ڈاکٹر نے کہاکہ دیگر 50 گائے انتہائی بری حالت میں ہیں جن کا علاج کیا جارہا ہے۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ گایوں کی اموات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ایک مقامی سب ڈیویژنل مجسٹریٹ راجیش پاترے نے کہاکہ مرنے والی گایوں کی صحیح تعداد کا پتہ لگانا ہنوز باقی ہے جس کے لئے تحقیقات جاری ہیں۔ پاتر نے کہا کہ ’’دیہاتیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران چارہ کی قلت کے سبب 200 گائے ہلاک ہوئی ہیں۔ یہ دعویٰ درست معلوم ہوتا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ کو ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے گی جس کے مطابق کارروائی کی جائے گی‘‘۔
بی جے پی لیڈر ہریش ورما اپنی گاؤشالہ کیلئے گذشتہ دو سال سے ریاستی حکومت سے رقم کی اجرائی کا مطالبہ کررہے تھے۔ ہریش ورما نے کہا کہ ’’میری گاؤشالہ ضرورت سے زیادہ گایوں سے پُر ہوگئی ہے۔ جہاں 220 کی گنجائش کے برخلاف فی الحال 650 گائے ہیں۔ ریاستی حکومت سے میں کئی مرتبہ کہہ چکا تھا کہ میں انہیں چارہ فراہم کرنے کے قابل نہیں ہوں لیکن میری نمائندگی بے سود ثابت ہوئی۔ اس گاؤشالہ کیلئے 10 لاکھ روپئے کے فنڈس منظور ہوئے تھے جو ریاستی حکومت کی طرف سے جاری نہیں کئے گئے ہیں۔ ان گایوں کی موت کے لئے میں قصوروار نہیں ہوں‘‘۔
اُدھر پولس اس بی جے پی لیڈر کے خلاف کارروائی شروع کرنے کیلئے اب ایک رسمی شکایت کا انتظار کررہی ہے۔ ضلع درگ کے انسپکٹر جنرل دیپانشو کابرا نے بتایا کہ ’’گاؤسیواآیوگ اس ضمن میں اعتماد شکنی اور غفلت و لاپرواہی کا ایک مقدمہ درج کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور شکایت درج کئے جانے کے بعد ایف آئی آر کے مطابق کارروائی شروع کی جائے گی۔ چھتیس گڑھ کے گاؤسیوا آیوگ کے سکریٹری اے کے پانی گروہی نے کہا کہ ’’ہمیں اس گاؤشالہ کی کارکردگی میں بے ضابطگیوں کا پتہ چلا تھا جس کے بعد رقمی امداد معطل کردی گئی تھی لیکن گاؤشالہ چلانے کیلئے سرکاری امداد ہی آمدانی کا واحد ذریعہ نہیں تھی۔